Abstract
ڈونلڈ جے ٹرمپ کی صدارت امریکی جمہوریت کے تجربے کا ایک نازک موڑ ثابت ہوئی—ایسا عہد جس میں ادارہ جاتی مزاحمت، عوامی اتحاد، اور اخلاقی قیادت کا تصور شدید آزمائش سے گزرا۔ ٹرمپ کی جمہوری اصولوں سے بغاوت، متشدد عوامی لب و لہجہ، اور شخصی اقتدار پسندی نے امریکی ریاست کے اندرونی توازن کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس مطالعے میں یہ واضح کیا گیا کہ کس طرح ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اعتماد، ادارہ جاتی استحکام، اور قومی وحدت کو مجروح کیا، اور بالآخر 2025 کی “نو کنگز تحریک” کے ذریعے امریکی عوام نے اس زوال کے خلاف اجتماعی بیداری پیدا کی۔ یہ تجزیہ تاریخی شواہد، قانونی کارروائیوں، اور سماجی سائنس کی تحقیق پر مبنی ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح عوامی مزاحمت نے آمرانہ رجحانات کا مقابلہ کرتے ہوئے جمہوریت کی ازسرِنو توثیق کی۔ “ٹرمپ تنازعہ” دراصل ایک انتباہ اور ایک اعلانِ عزم ہے—یہ ثابت کرتا ہے کہ جمہوریت محض اداروں سے نہیں بلکہ عوامی ضمیر سے زندہ رہتی ہے۔