Abstract
پاکستان کی سیاست گزشتہ دہائیوں میں سیاسی بحرانوں، ادارہ جاتی مداخلت، اور جمہوری پسپائی کے مسلسل تجربات سے گزری ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) اور جماعتِ اسلامی (Jamaat-e-Islami) کے درمیان ممکنہ اتحاد ملک کی سیاسی سمت کو ازسرِنو تشکیل دینے کا ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اتحاد محض انتخابی مفاد پر مبنی نہیں بلکہ اصولی سیاست، اخلاقی قیادت، اور نظریاتی ہم آہنگی پر مبنی ایک جدید سیاسی محور کی نمائندگی کرتا ہے۔ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کا اتحاد اسلامی جمہوریت کی تجدید اور نظریاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان کی سیاست کو اخلاقی سمت فراہم کر سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کی فکری بنیاد اسلامی جمہوریت، اخلاقی قیادت، اور سماجی انصاف پر مبنی ہے، جو تحریکِ انصاف کے "نیا پاکستان" کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو بدعنوانی، طبقاتی استحصال، اور ناانصافی کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔ جماعتِ اسلامی نے تاریخی طور پر علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق اسلامی اصولوں کو جمہوری حکمرانی کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحریکِ انصاف کی 2013 سے 2023 تک کی سیاسی جدوجہد، جس میں چیئرمین عمران خان نے ادارہ جاتی اصلاحات، قانون کی حکمرانی، اور اقتصادی شمولیت پر زور دیا، جماعتِ اسلامی کے فکری فریم ورک کو عملی جہت فراہم کرتی ہے۔