Abstract
جماعتِ اسلامی پاکستان کی سیاسی و فکری تاریخ میں ایک ایسی تحریک کے طور پر ابھری ہے جسے 1941 میں لاہور میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے "اقامتِ دین" کے فلسفے پر استوار کیا۔ یہ کوئی عام سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو اسلام کو معیشت، سیاست، معاشرت، اور قانون میں ایک جامع نظامِ زندگی کے طور پر نافذ کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ اس کی نظریاتی پختگی نے اسے پاکستان کے اجتماعی ضمیر کی آواز بنایا، لیکن یہی استقامت اس پر الزامات کا باعث بھی بنی۔ یہ الزامات—"فوج کی بی ٹیم" ہونے، 1980 کی دہائی میں "افغان جنگ میں امریکی اتحادی" بننے، 1971 کے بنگلہ دیش بحران میں "ظلم"، اور حالیہ "پی ٹی آئی کے ووٹر توڑنے" کے دعووں پر مشتمل ہیں—سیاسی حسد، فکری مغالطوں، اور تاریخی تحریف کا نتیجہ ہیں۔ یہ مضمون ان الزامات کا تاریخی، نظریاتی، اور منطقی جائزہ پیش کرتا ہے، حقائق کو شخصیات، واقعات، اور جغرافیائی سیاق کے ذریعے واضح کرتا ہے، اور جماعت کی نظریاتی جدوجہد کی سچائی کو نمایاں کرتا ہے۔