Abstract
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل—خاص طور پر کبوٹز بیری اور سدیروت—پر حملوں، جن میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 یرغمالی بنائے گئے، اور اس کے جواب میں اسرائیل کی غزہ پر فوجی کارروائی، جس نے غزہ ہیلتھ منسٹری کے مطابق 42,438 فلسطینیوں کی جانیں لیں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 29 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ہمراہ پیش کردہ غزہ امن منصوبہ ایک امید افزا اقدام دکھائی دیا۔ یہ منصوبہ، جو بظاہر جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اور غزہ کے 2.3 ملین سنی فلسطینیوں کی بحالی کے لیے تھا، دراصل ایک پیچیدہ چال تھا جو اسرائیل کی تزویراتی بالا دستی کو مضبوط کرنے اور فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ اس کی حقیقت امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے 27 ستمبر 2025 کو تیار کردہ 21 نکاتی مسودے اور وائٹ ہاؤس کے 20 نکاتی حتمی متن کے تقابل سے عیاں ہوتی ہے، جسے نیتن یاہو نے وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ 28 ستمبر کو چھ گھنٹے کی ملاقات میں تبدیل کروایا۔ یہ تبدیلیاں، جو ایکسوس اور دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹس سے ثابت شدہ ہیں، نہ صرف فلسطینیوں کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ 22 رکنی عرب لیگ اور 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اتحاد کو پارہ پارہ کر رہی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، اس منصوبے نے فلسطینیوں کے 1948 کی نکبہ سے جڑے تاریخی زخموں کو مزید گہرا کیا، جب 750,000 فلسطینی بے گھر ہوئے تھے۔