Abstract
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے)، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاسی تنازعات کی آماجگاہ رہا، آج ایک ایسی عوامی تحریک کا مرکز بن چکا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کو عیاں کرتی ہے۔ یہ جنگ نہ تو سرحدی تنازعات کی ہے اور نہ ہی عالمی سیاست کے شطرنجی کھیل کی، بلکہ یہ روٹی، کپڑا، اور مکان کے بنیادی حقوق کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہاں کے عوام کی آواز، جو برسوں سے دبائی گئی، اب سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں بلند ہو رہی ہے، لیکن افسوس کہ ان کی فریاد کو سننے کے بجائے گولیوں سے خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تحریر آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کی ایک جامع، تجزیاتی، اور اثر انگیز تصویر پیش کرتی ہے، جو نہ صرف عوامی تحریک کی گہرائی کو واضح کرتی ہے بلکہ اس کے تاریخی، معاشی، اور سماجی پس منظر کو بھی اجاگر کرتی ہے۔